تفسير ابن كثير



سورۃ الذاريات

[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وَفِي مُوسَى إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَى فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ[38]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] اور موسیٰ میں(بھی ایک نشانی ہے) جب ہم نے اسے فرعون کی طرف ایک واضح دلیل دے کر بھیجا۔ [38]
........................................

[ترجمہ محمد جوناگڑھی] موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا [38]۔
........................................

[ترجمہ فتح محمد جالندھری] اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا [38]۔
........................................

 

تفسیر آیت/آیات، 38،

انجام تکبر ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ” جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کر سکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا “۔

اس دشمن الٰہی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر موسیٰ علیہ السلام کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے ” پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند، متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ لشکر سمیت دریا برد کر دیا “۔

” اسی طرح عادیوں کے سراسر عبرتناک واقعات بھی تمہارے گوش گزار ہو چکے ہیں جن کی سیاہ کاریوں کے وبال میں ان پر بے برکت ہوائیں بھیجی گئیں جن ہواؤں نے سب کے حلیے بگاڑ دئیے ایک لپٹ جس چیز کو لگ گئی وہ گلی سڑی ہڈی کی طرح ہو گئی “۔
8811

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہوا دوسری زمین میں مسخر ہے جب اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ہوا کے داروغہ کو حکم دیا کہ ان کی تباہی کے لیے ہوائیں چلا دو، فرشتے نے کہا: کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا وزن کر دوں جتنا بیل کا نتھنا ہوتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: نہیں، اگر اتنا وزن کر دیا تو زمین کو اور اس کائنات کو الٹ دے گی بلکہ اتنا وزن کرو جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے یہ تھیں وہ ہوائیں جو کہ جہاں جہاں سے گزر گئیں تمام چیزوں کو تہ و بالا کرتی گئیں [تفسیر ابن جریر الطبری:433/22:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا فرمان رسول ہونا تو منکر ہے سمجھ سے زیادہ قریب بات یہی ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے یرموک کی لڑائی میں انہیں دو بورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے ممکن ہے انہی میں سے یہ بات آپ نے بیان فرمائی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

یہ ہوائیں جنوبی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری مدد پروا ہواؤں سے کی گئی ہے اور عادی پچھوا ہواؤں سے ہلاک ہوئے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4105] ‏‏‏‏
8812

ٹھیک اسی طرح ثمودیوں کے حالات پر اور ان کے انجام پر غور کرو کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک وقت مقررہ تک تو تم فائدہ اٹھاؤ جیسے اور جگہ فرمایا «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَـعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ» [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے ہدایت پر ضلالت کو پسند کیا جس کے باعث ذلت کے عذاب کی ہولناک چیخ نے ان کے پتے پانی کر دئیے اور کلیجے پھاڑ دئیے یہ صرف ان کی سرکشی سرتابی نافرمانی اور سیاہ کاری کا بدلہ تھا “۔
8813

ان پر ان کے دیکھتے دیکھتے عذاب الٰہی آ گیا تین دن تک تو یہ انتظار میں رہے عذاب کے آثار دیکھتے رہے، آخر چوتھے دن صبح ہی صبح رب کا عذاب دفعۃً آ پڑا، حواس باختہ ہو گئے کوئی تدبیر نہ بن پڑی، اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ کھڑے ہو کر بھاگنے کی کوشش تو کرتے یا کسی اور طرح اپنے بچاؤ کی کچھ تو فکر کر سکتے اسی طرح ان سے پہلے قوم نوح بھی ہمارے عذاب چکھ چکی ہے اپنی بدکاری اور کھلی نافرمانی کا خمیازہ وہ بھی بھگت چکی ہے یہ تمام مفصل واقعات فرعونیوں، عادیوں، ثمودیوں اور قوم نوح کے اس سے پہلے کی سورتوں کی تفسیر میں کئی بار بیان ہو چکے۔
8814



http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.